’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِؕ ‘‘کے اُنیس حُروف کی نسبت سے

مزارات پر حاضری کے19 مَدَنی پھول


زِیارتِ قبور آخِرت کی یاد دلاتی ہے

  نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَالتَّسْلِیم کا فرمانِ عظیم ہے: میں نے تم کو زیارتِ قُبُور سے منع کیا تھا، اب تم قبروں کی زیارت کرو کہ وہ دُنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخِرت کی یاد دلاتی ہے۔  (سُنَنِ اِبن ماجہ ج۲ص۲۵۲حدیث۱۵۷۱دارالمعرفۃ)
شہدائے اُحد کے مَزارات پر تشریف لے جاتے 
ہمارے پیارے پیارے آقا ،مکّی مَدَنی مصطَفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم شہداءے اُحُد علیہم الرضوان کی مبارَک قبروں کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور اُن کے لیے دُعا فرماتے۔ (مُصَنَّفعَبْد الرَّزّاق ج۳ ص۳۸۱ رقم ۶۷۴۵،تفسیردُرّ مَنثورج۴ص۶۴۰)

مسلمانوں کی قبروں کی زیارت سنّت ہے 

قبورِمسلمین کی زیارت سنّت اور مزاراتِ اولیاء ِکرام و شہداء عظام رَحمَہُمُ اللہُ السلام کی حاضری سعادت بَر سعادت اور انہیں ایصالِ ثواب مَندُوب (یعنی پسندیدہ ہے)۔ (فتاوٰی رضویہ مخرّجہ ج ۹ص۵۳۲)ہر ہفتہ میں ایک دن زِیارت کرے،جمعہ یا جمعرات یا ہفتہ یا پیر کے دن مناسب ہے، سب میں افضل روزِ جمعہ وقتِ صبح ہے۔ (بہارِ شریعت ج۱ حصہ ۴ص۸۴۸)

 مَزاراتِ اولیا سے نَفْعْ ملتا ہے

  اولیاءے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلامکے مزاراتِ طَیِّبہ پر سفر کر کے جانا جائز ہے، وہ اپنے زائر کو نفع پہنچاتے ہیں اور اگر وہاں کوئی منکرِ شرعی ہو مثلاً عورتوں سے اِختلاط تو اس کی وجہ سے زِیارت تَرک نہ کی جائے کہ ایسی باتوں سے نیک کام تَرْک نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے بُرا جانے اور ممکن ہو تو بُری بات زائل کرے۔ (بہارِ شریعت ج۱ حصہ ۴ص۸۴۸)

شہداء کرام کے مزارات پرسلام کا طریقہ

  شہداء کِرام  رَحِمَہُمُ اللہُ السّلامکے مزاراتِ طاہِرات کی زیارت کے وقت اس طرح سلام عرض کیجئے:سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِترجَمہ: تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے، پس آخِرت کیا ہی اچّھا گھرہے ۔       (فتاوٰی عا لمگیری ج۵ص۳۵۰) 

 قبروں پر پاؤں نہ رکھے 

  قبرِستان میں اُس عام راستے سے جائے،جہاں ماضی میں کبھی بھی مسلمانوں کی قبریں نہ تھیں ، جو راستہ نیابناہواہو اُس پرنہ چلے۔ ’’رَدُّالْمُحتار‘‘میں ہے:
 (قبرِستان میں قبریں پاٹ کر) جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اُس پرچلنا حرام ہے ۔ (رَدُّالْمُحتار ج۱ ص۶۱۲) بلکہ نئے راستے کا صِرف گمانِ غالب ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔ (دُرِّمُختارج۳ص۱۸۳دارالمعرفۃ بیروت )کئی مزاراتِ اولیاء پر دیکھا گیا ہے کہ زائرین کی سَہولت کی خاطر مسلمانوں کی قبریں مِسمار (یعنی توڑ پھوڑ) کر کے فرش بنادیاجاتا ہے،ایسے فرش پر لیٹنا، چلنا،کھڑا ہونا ، تِلاوت اور ذِکرو اَذکار کیلئے بیٹھناوغیرہ حرام ہے،دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجئے 
مزارشریف یا  قَبْر کی زیارت کیلئے جاتے ہوئے راستے میں فُضُول باتوں میں مشغول نہ ہو۔  (فتاوٰی عا لمگیری ج۵ص۳۵۰) 

سرہانے سے نہ آئیں 

  زیارتِ قبر میّت کے مُوَاجَہَہ میں (یعنی چِہرے کے سامنے)  کھڑے ہو کر ہو اور اس( یعنی قبر والے) کی پائِنتی( پا۔ اِن۔تِی یعنی قدموں ) کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو، سرہانے سے نہ آئے کہ اُسے سر اُٹھا کر دیکھنا پڑے۔ 
 (فتاوٰی رضویہ مخرجہ ج ۹ص۵۳۲رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور ) 

قَبْر کو بوسہ نہ دیں 

  قَبْرکو بوسہ نہ دیں ، نہ قَبْر پر ہاتھ لگائیں (فتاوٰی رضویہ’’  مخرّجہ‘‘ ج ۹ص۵۲۲،  ۵۲۶) بلکہ قَبْرسے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو جائیں ۔

مزارپر چادر چڑھانا

  بُزُرگانِ دین اور اولیاء وصالحین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِینکے مزاراتِ طیِّبات پر غِلاف( یعنی چادر) ڈالنا جائز ہے، جبکہ یہ مقصود ہو کہ صاحِبِ مزار کی وَقْعَت(یعنی عزَّت وعَظَمت) عوام کی نظر میں پیدا ہو،ان کا ادب کریں ، ان کے بَرَکات حاصل کریں ۔ 
(رَدُّالْمُحتارج۹ص۵۹۹)

قَبْر پر پھول ڈالنا

قَبْر پر پھول ڈالنا بہتر ہے کہ جب تک تَر رہیں گے تسبیح کرینگے اور میِّت کا دل بہلے گا۔ 

قَبْر پر اگر بتّی جلانا

  قَبْر کے اوپر’’ اگر بتّی‘‘ نہ جلائی جائے اِس میں سُوئے ادب( یعنی بے اَدَبی) اور بد فالی ہے ( اور اس سے میِّت کو تکلیف ہوتی ہے) ہاں اگر(حاضِرین کو) خوشبو(پہنچانے)کے لیے(لگانا چاہیں تو) قَبْر کے پاس خالی جگہ ہو وہاں لگائیں کہ خوشبو پہنچانا مَحبوب (یعنی پسندیدہ)  ہے ۔ (مُلَخَّصاً فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۹ص  ۴۸۲،۵۲۵)

قَبْر پر موم بتّی رکھنا

  قَبْرپر چَراغ یا موم بتّی وغیرہ نہ رکھے کہ یہ آگ ہے، اور قَبْر پر آگ رکھنے سے میِّت کو اَذِیَّت (یعنی تکلیف) ہوتی ہے، ہاں رات میں راہ چلنے والوں کے لیے روشنی مقصود ہو، تو قبر کی ایک جانب خالی زمین پر موم بتّی  یاچَراغ رکھ سکتے ہیں ۔

مزارات پرچَراغاں کرنا

اگرشَمعیں روشن کرنے میں فائدہ ہو کہ مَوضَعِ قُبُور میں مسجِد ہے یاقُبور سرِراہ(یعنی راستے میں)  ہیں یا وہاں کوئی شخص بیٹھا ہے یا مزار کسی ولیُّ اللہیا مُحَقِّقِین عُلَماء میں سے کسی عالِم کا ہے، وہاں شَمعیں روشن کریں ا ن کی رُوحِ مبارَک کی تعظیم کے لیے جو اپنے بدن کی، خاک پر ایسی تجلّی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر، تاکہ اس روشنی (یعنی لائٹنگ) کرنے سے لوگ جانیں کہ یہ ولی کا مزارِ پاک ہے تاکہ اس سے تَبَرُّک  (یعنی برکت حاصل)کریں او ر وہاںاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعامانگیں کہ ان کی دُعا قَبول ہو،تو یہ اَمْر جائز ہے اس سے اَصلاً مُمانَعَت نہیں ، اور اعمال کا مدار نِیّتوں پر ہے ۔
(فتاوٰی رضویہ’’مُخَرّجہ‘‘ ج ۹ ص ۴۹۰، اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ  ج۲ص۶۳۰)

قَبْر کا طواف

    قَبْرکا طواف کرنا منع ہے ۔ (فتاویٰ رضویہج۹ مخرجہ ص۵۲۷ملتقطًا)

قَبْر کو سجدہ کرنا

   قَبْرکو سجدۂ تعظیمی کرناحرام ہے اور اگر عبادت کی نیِّت ہو توکُفْر ہے۔
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ص۴۲۳) 
  کبھی کبھی ماں باپ کی قبروں کی زیارت کے لئے بھی جایاکریں ۔ ان کے مزاروں پر فاتحہ پڑھیں ۔ سلام کریں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں اس سے ماں باپ کی اَرواح کو خوشی ہوگی اور فاتحہ کا ثواب فرشتے نور کی تھالیوں میں رکھ کر ان کے سامنے پیش کریں گے اور ماں باپ خوش ہو کر اپنے بیٹے بیٹیوں کو دعائیں دیں گے۔ (جنتی زیور ص۹۴)
  شَعبان الْمُعَظَّم کی پندرھویں رات جس کو شب ِبرأت کہتے ہیں بہت مبارک رات ہے۔ اس رات میں قبر ستان جانا، وہاں فاتحہ پڑھنا سنت ہے ، اسی طر ح بزرگان دین کے مزارات پر حاضِر ہونا بھی ثواب ہے۔ (اسلامی زندگی، ص۱۳۳، ملخصاً)