(۱۴)   ہومدینے کا ٹکٹ مجھ کو عطا داتا پیا

شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ غالباً1993؁ء کے موسمِ حج میں کسی وجہ سے سفرِ مدینہ نہ کرسکے  تھے جس کا آپ دامت برکاتہم العالیہ کو بہت صدمہ تھا ،اپنی حسرتوں کااِ ظہار آپ دامت برکاتہم العالیہ نے ان اشعار میں بھی کیا ہے:    ؎
کاش! پھر مجھے حج کا اِذْن مل گیا ہوتا
اور روتے روتے میں ، کاش! چل پڑا ہوتا
مجھ کو پھر مدینے میں اس برس بھی بُلواتے
آپ کا بڑا احساں مجھ پہ یہ شہا ہوتا
(وسائلِ بخشش، ص۱۷۲)
پھرجب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدامت برکاتہم العالیہ 12ماہ کے سفر کے دوران مرکز الاولیاء لاہور میں تھے تویہ اِستغاثہ لکھا :  ۱ 
ہو مدینے کا ٹِکَٹ مجھ کو عطا داتا پِیا
آپ کو خواجہ پِیا کا واسِطہ داتا پیا
دولتِ دنیا کا سائل بن کے میں آیا نہیں
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا داتا پیا
(وسائلِ بخشش، ص۵۰۶)
اور حضرت سیدنا علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  کے مزار مبارک پر حاضر ہوکر پیش کردیا ۔اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! کچھ ہی دن بعد ایک اسلامی بھائی نے بغیر کسی مطالبے کے  شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکی مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللہُ شَرَفًا وَّتَعظِیْماً میں حاضری کا انتظام کردیا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !
صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد