مزارات پر کیا دعا مانگنی چاہئے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حکایت سے یہ بھی دَرْس ملا کہ مزارات اولیاء پر جاکر’’ بیماری ،بے روزگاری ،قرضداری ،گھریلوناچاقی اوربے اولادی‘‘ جیسے دُنیاوی مسائل کے حل کی دعا کے ساتھ ساتھ’’ ایمان کی سلامتی، حَرَمَینِ طیبین کی بااَدَب حاضِری،وقتِ نَزع میں آسانی، قبروحشر میں کامیابی اور پُل صِراط پر ثابِت قَدَمی ‘‘جیسی اُخروی نعمتیں بھی مانگنی چاہئیں ،اِس ضِمن میں ایک سبق آموز حکایت ملاحظہ ہو:چنانچہ 

بڑی چیز مانگو

ایک شخص کا بیان ہے کہ میں مَدینۂ طَیِّبَہ زَ ادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًا  میں مُقِیم تھا ،مجھے بھوک نے پریشان کیا تو مزارِ اَقدس پر حاضر ہوا اور عَرْض کی:’’ یارسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میں بھوکا ہوں ‘‘ اور حُجرئہ مبارَکہ کے قریب ہی بیٹھ گیا ۔ساداتِ کرام میں سے ایک بُزُرگ میرے پاس تشریف لائے اور کہا: ’’چلو۔‘‘ میں نے پوچھا :’’ کدھر؟‘‘ جواب دیا: ’’ہمارے گھر پرتاکہ کچھ کھا پی لو۔‘‘ میں اُن کے ساتھ چل دیا، انہوں نے مجھے ثَرید کا ایک بَہُت بڑا پیالہ دیا جس میں گوشت اور زیتون وافِر (یعنی کثیر) مقدار میں تھا ۔ میں نے خوب کھایا اور واپسی کا اِرادہ کیا، انہوں نے پھر فرمایا: ’’مزید کھاؤ۔‘‘ میں نے تھوڑا اور کھالیا، جب واپَس ہونے لگا تو انہوں نے نصیحت کے مَدَنی پھول میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا : ’’ میرے بھائی! ذرا یہ خیال تو کیا کرو کہ تم لوگ کتنے دُور دراز عَلاقوں سے چلتے ہو ! جنگل و بَیابان طے کرتے ہو ،سَمُندروں کوعُبُور کرتے ہو، اہلِ وعِیال کو پیچھے چھوڑتے ہو اور حضورنبیِّ اَکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوتے ہو، مگر یہاں پہنچ کر تمہارا مُنْتَہائے مقصود (یعنی سب سے بڑا مطالبہ )یِہی رہ جاتا ہے کہ یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمروٹی کا ٹکڑا عطا کردیجئے!اے میرے بھائی ! اگر تم نیجنّت مانگی ہوتی ، گناہوں کی مَغْفِرَت کا سُوال کیا ہوتا ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضا مندی کا مطالَبہ کیا ہوتا یا اسی قسم کا کوئی عظیم مقصد ومُدّعا اِن کے حُضور پیش کیا ہوتا تو سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی برکت سے وہ عظیم مقاصد بھی 
تمہیں حاصل ہوجاتے۔‘‘ ( شواہدالحق ص۲۴۰) 
مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ’’ لا‘‘ ہے نہ حاجت’’ اگر ‘‘ کی ہے
(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !
صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد