مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں 

خلیفۂ صدرِ شریعت، پیرِطریقت حضرتِ علاّمہ مولانا حافظ قاری محمد مُصلحُ ا لدّین صِدّیقی القادِری علیہ رحمۃُ اللہِ القوی سے میں (سگِ مدینہ عفی عنہ)نے سنا ہے، وہ فرماتے تھے:مُصنّفِ بہارِ شریعت حضرتِ صدرُ الشّریعۃ مولیٰنا محمد امجد علی اعظمی صاحِب رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے ہمراہ مجھے مدینۃ الاولیا احمدآباد شریف (ھند)میں حضرت سیّد نا شاہ عالم  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے دربار میں حاضِری کی سعادت حاصِل ہوئی، ان دونوں تختوں کے نیچے حاضرہوئے اوراپنے اپنے دِل کی دعائیں کرکے جب فارِغ ہوئے تو میں نے اپنے پیرومُرشِد حضرتِ صدرُالشریعہ  علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی  سے عرض کی:حُضور! آپ نے کیا دعا مانگی؟ فرمایا:’ ’ہر سال حج نصیب ہونے کی۔‘‘ میں سمجھا حضرت کی دُعا کا مَنشا یِہی ہوگا کہ جب تک زِندہ رہوں حج کی سعادت ملے ۔ لیکن یہ دُعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اُسی سال حج کا قَصدفرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سَوار ہونے کیلئے اپنے وطن مدینۃ العلماء گھوسی( ضِلع اعظم گڑھ) سے بمبئی تشریف لائے ۔یہاں آپ کو نُمونیہ ہوگیا اورسفینے میں سوار ہونے سے قبل ہی
  ۱۳۶۷؁ کے ذیقعدۃُ الحرام کی دوسری شب 12 بجکر 26 مِنَٹ پر بمطابِق6 ستمبر 1948 کوآپ وفات پاگئے۔
مدینے کا مسافِر ہند سے پہنچا مدینے میں
قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں
سبحٰنَ اللہ!مبارَک  تخت کے تحت مانگی ہوئی دُعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ اب آپ  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   قِیامت تک حج کا ثواب حاصِل کرتے رہیں گے۔ خود حضرتِ صدرالشّریعہ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل حصّہ6 صَفْحَہ 1034پر یہ حدیثِ پاک نقل کی ہے:جو حج کیلئے نکلا اور فوت ہوگیا تو قِیامت تک اُس کے لئے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کیلئے نکلا اور فوت ہوگیا اُس کیلئے قِیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور فوت ہوگیا اس کیلئے قِیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔ (مسند أبي یعلی ج۵، ص۴۴۱حدیث ۶۳۲۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
(تذکرۂ صدر الشریعہ، ص۳۸)