(۱۳)  حضرتِ شاہِ عالم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم کا تخت 

شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’تذکرۂ صدر الشریعہ‘‘ کے صفحہ 36پر لکھتے ہیں :حضرتِ سیِّدُنا شاہِ عالَم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم بَہُت بڑے عالمِ دین اور پائے کے ولیُّ اللہ تھے۔مدینۃ الاولیا احمد آباد شریف(گجرات الھند) میں آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنہایت ہی لگن کے ساتھ علمِ دین کی تعلیم دیتے تھے ۔ ایک بار بیمار ہوکر صاحبِ فَراش ہوگئے اور پڑھانے کی چُھٹیاں ہوگئیں جس کا آپ   رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  کو بے حد افسوس تھا۔ تقریباً چالیس دن کے بعد صحّت یاب ہوئے اور مدرَسے میں تشریف لاکر حسبِ معمول اپنے تخت پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس دن پہلے جہاں سبق چھوڑا تھا وَہیں سے پڑھانا شروع کیا۔طَلَبہ نےمُتَعَجِّب ہوکر عرض کی: حضور!آپ نے یہ مضمون تو بَہت پہلے پڑھادیا ہے گزَشتہ کل تو آپ    نے فُلاں سبق پڑھایا تھا! یہ سن کر آپ  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ    فورًا مُراقِب ہوئے۔ اُسی وقت سرکارِ مدینہ ، قرارِقلب و سینہ، فیض گنجینہ، صاحِبِ معطَّر پسینہ، باعثِ نُزُولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زِیارت ہوئی۔ سرکار  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے لبہائے مبارَکہ کو جنبش ہوئی، مُشکبار پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: ’’شاہِ عالم! تمہیں اپنے اَسباق رہ جانے کا بہت افسوس تھا لہٰذا تمہاری جگہ تمہاری صورت میں تخت پر بیٹھ کر میں روزانہ سبق پڑھادیا کرتا تھا۔‘‘ جس تخت پر سرکارِنامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف فرما ہواکرتے تھے اُس پر اب حضرتِ قبلہ سیِّدُنا شاہِ عالم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم کس طرح بیٹھ سکتے تھے لہٰذا فورًا تخت پر سے اُٹھ گئے۔ تخت کو یہاں کی مسجِد میں مُعَلَّق کردیا گیا۔ اس کے بعد حضرتِ سیِّدنا شاہِ عالم
علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم کس طرح بیٹھ سکتے تھے لہٰذا فورًا تخت پر سے اُٹھ گئے۔ تخت کو یہاں کی مسجِد میں مُعَلَّق کردیا گیا۔ اس کے بعد حضرتِ سیِّدنا شاہِ عالم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرمکیلئے دوسرا تخت بنایا گیا ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے وِصال کے بعد اُس تخت کو بھی یہاں مُعلّق کردیا گیا۔اِس مقام پر دُعاقَبول ہوتی ہے۔