(۱۱)  قرض معاف ہوگیا

حضرت سیدنا  حمیدیعلیہ رحمۃُ اللہِ القویفرماتے ہیں : مجھ پر قرض تھا ،اسی پریشانی کے عالَم میں حضرت سیدنا محمد بن جعفر حسینی علیہ رحمۃُ اللہِ القویکے مزار شریف پر حاضر ہوا۔ میں نے قرآن پاک کے کچھ حصے کی تلاوت کی اور رو دیا،ایک زائر (یعنی مزار کی زیارت کے لئے آنے والے)نے میرا رونا سن لیا اور مجھے کچھ سونا دیا اورکہا: اس صاحب ِ مزار کی خاطر یہ سونا لے لو۔ میں نے وہ سونا لیا اور چل دیا، ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ میرا قرض خواہ آگیا، مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا : یہ سونا اُس زائر کو واپس کردیں کیونکہ میں اَجرو ثواب کا اُس کی نسبت زیادہ حق دار ہوں ۔ میں نے قرض خواہ سے اِس معافی کا سبب دریافت کیا کہ آپ کو میرا خیال کس نے بتایا ہے؟ وہ کہنے لگا:’’ میں نے اس قبر والے بزرگ کو خواب میں دیکھا، انہوں نے مجھے کہا 
  ہے کہ اگر تو حمیدی سے دَر گزر کرے گا تو میں تجھے جنت میں محل دلاؤں گا۔‘‘ اس نے نہ صرف میرا قرض معاف کردیا بلکہ مجھے مزید چھ درہم بھی دے دیئے۔ حضرت سیدنا علامہ سَخاوی علیہ رحمۃُ اللہِ القویفرماتے ہیں : یہ تجربہ ہے کہ حضرت سیدنا محمد بن جعفر حسینی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کے مزار پر دُعا قبول ہوتی ہے۔ یہ قبرمصر میں سیِّدہ نفیسہ (بنت حسن بن زید بن حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہم)کے مزار کے مغرب میں واقع ہے اور اس پر قُبہ بنا ہوا ہے۔ (جامع کرامات اولیاء، ج۱،ص اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قرض معاف کرنے کی فضیلت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس ایمان افروز حکایت میں قرض معاف کرنے کا بھی ذکر ہے ، اس کی بھی بڑی فضیلت ہے:چنانچہ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہسے مروی ہے کہ حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِراً اَوْ وَضَعَ لَہُ اَظَلَّہُ اللہُ یومَ الْقِیا مَۃِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِہِ یومَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہ یعنی جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا قرض معاف کردے تو  اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا کہ جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔(ترمذی، کتاب البیوع،ج۳،ص۵۲،الحدیث۱۳۱۰)
ہائے! حُسنِ عمل نہیں پلّے گرمیِ حشْر، پیاس کی شدّت
حشْر میں میرا ہوگا کیا یاربّ جامِ کوثر مجھے پِلا یاربّ
(وسائلِ بخشش،ص۸۸)

مَجلِس مزاراتِ اولیاء

اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!دعوتِ اسلامی دنیا بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے، سنتوں کی خوشبو پھیلانے اور عِلْمِ دین کی اِشاعت میں مصروف ہے ۔ (تادمِ تحریر) دنیا کے کم وبیش 176ممالک میں اس کا مَدَنی پیغام پہنچ چکا ہے ۔ ساری دنیا میں مَدَنی کام کو منظم کرنے کے لئے تقریباً63مجالس قائم ہیں ، انہی میں سے ایک ’’مجلس مزاراتِ اولیاء‘‘ بھی ہے جو اولیاءے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کے راستے پر چلتے ہوئے مزاراتِ مبارکہ پر حاضر ہونے والے اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے کے لئے کوشاں ہے ۔ یہ مجلس حتَّی المَقدُور صاحبِ مزار کے عُرس کے موقع پر اِجتماعِ ذکرونعت کرتی ہے ، مزارات سے مُلْحِقہ مساجِد میں عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافلے سفر کرواتی ہے، مزارشریف کے اِحاطے میں (بالخصوص عُرس کے دنوں میں ) سنّتوں بھرے مَدَنی حلقے لگاتی ہے جن میں وُضو،غسل ،تیمم اور نماز کا طریقہ نیز سنّتیں سکھائی جاتی ہیں اور عاشِقانِ رسول کو حسبِ موقع اچھی اچھی نیتوں مثلاً باجماعت نماز کی ادائیگی، دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت ،درسِ فیضان سنت دینے یا سننے ،صاحبِ مزار کے اِیصالِ ثواب کے لئے ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلوں میں سفراورفکرِ مدینہ کے ذَرِیعے روزانہ مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر مَدَنییعنی قَمری ماہ کی ابتِدائی دس تاریخوں کے اندر اندر اپنے ذِمّے دار کو جمع کرواتے رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ ’’مجلس مزاراتِ اولیاء‘‘ 

صاحبِ مزار کی خدمت میں(خصوصاً ایامِ عُرس میں) ڈھیروں ڈھیر ایصالِ ثواب کا تحفہ پیش کرتی ہے اور صاحبِ مزار بُزُرگ کے سَجادہ نشین ،خُلَفَا اورمَزارات کے مُتَوَلِّی  صاحبان سے وقتاً فوقتاًملاقات کر کے اِنہیں دعوتِ اسلامی کی خدمات، جامعاتُ المدینہ و مدارِسُ المدینہ اور بیرونِ ملک ہونے والے  مَدَنی کام وغیرہ سے آگاہ رکھتی ہے۔مَزارات پر حاضری دینے والے اسلامی بھائیوں کو شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی عطا کردہ نیکی کی دعوت بھی پیش کی جاتی ہے:

نیکی کی دعوت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ کو مزار شریف پر آنا مبارک ہو، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! تبلیغ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی طرف سے سنّتوں بھرے مَدَنی حلقوں کا سِلسِلہ جاری ہے ، یقیناً زندگی بے حد مختصر ، ہم لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں،عنقریب ہمیں اندھیری قبر میں اترنا اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا ، ان انمول لمحات کو غنیمت جانئے اور آئیے ! اَحکامِ الٰہی پر عمل کا جذبہ پانے ، مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتیں اور اللہ کے نیک بندوں کے مزارات پر حاضری کے آداب سیکھنے سکھانے کے لئے مَدَنی حلقوں میں شامل ہوجائیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دونوں جہاں کی بھلائیوں سے مالا مال فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم