(۱۰)  گلاب کے پھول

اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : ایک جگہ کوئی قَبْرکھل گئی اور مُردہ نظر آنے لگا ، دیکھا کہ گلاب کی دو شاخیں اُس کے بد ن سے لپٹی ہیں اور گلاب کے دو پھول اُس کے نَتھنو ں (یعنی ناک کے دونوں سوراخوں )پر رکھے ہیں ۔ اس کے عزیزوں نے اِس خیال سے کہ یہاں قَبْر پانی کے صدمے سے کُھل گئی، دو سری جگہقَبْر کھود کر(مرحوم کی لاش کو) اُس میں رکھا، اب جو دیکھا تو دو اَژدَہے (یعنی دو بَہُت بڑے سانپ) اُس کے بدن سے لپٹے اپنے پھَنوں سے اُس کا منہ بَھمبَھوڑ (یعنی نوچ) رہے ہیں ! حیران ہوئے ۔ کسی صاحِبِ دل سے یہ واقِعہ بیان کیا ، اُنہوں نے فرمایا : وہاں بھی یہ اَژدَھے ہی تھے مگر ایک ولیُّ اللہ کے مزار کا قُرب تھا ،اُس کی بَرَکت سے وہ عذاب رَحمت ہوگیا تھا، وہ اَژدَھے دَرَخت ِگُل کی شکل ہوگئے تھے اوران کے پھَن گلاب کے پھول۔ اِس(یعنی مرحوم) کی خیریت چاہو تو وَہیں لے جاکر دفن کرو ۔ وَہیں لے جاکر رکھا پھروُہی درختِ گل تھے اور وُہی گلاب کے پھول ۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ص۲۷۰مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی کی زمین پر زبردستی قبضہ نہ ہواورحقوقِ عامہ تلف 
کئے بغیر حتی المقدور اپنے مُردوں کو مزارات اولیاء کے قریب دفن کرنا چاہئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اولیاء کرام کی برکتیں نصیب ہوں گی ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : اپنے مُردو ں کو بُزُرگو ں کے پاس دَفن کرو کہ اِن کی بَرَکَت کے سبب اُن پر عذاب نہیں کیا جاتا ۔ھُمُ الْقَوْمُ لاَیَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُم۔(یعنی)یہ ایسی قوم ہے جس کا ہم نشین(یعنی صحبت میں رہنے والا ) بھی محروم نہیں رہتا ۔ ولہٰذا حدیث میں فرمایا :اَدْفِنُوْا مَوْتَاکُمْ وَسْطَ قَوْمِ  الصّٰلِحِیْن (یعنی ) اپنے مُردوں کو نیکوں کے درمیان دفن کرو۔ (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الخطابج۱ ص۱۰۲ حدیث۳۳۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد