عورتوں کی مَزارات پر حاضِری

ءاِسلامی بہنیں مزارات پر نہ جائیں بلکہ گھر سے ہی ایصالِ ثواب کردیا کریں ۔ہاں ! روضۂ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی حاضر ی کے لئے جاسکتی ہیں ۔ صدرُ الشَّریعہ بدرُ الطَّریقہ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : او ر اسلم (یعنی سلامتی کا راستہ )یہ ہے کہ عورتیں مُطلَقاً منع کی جائیں کہ اپنوں کی قُبُور کی زیارت میں تو وُہی جَزَع وفَزَع (یعنی رونا پیٹنا) ہے اور صالحین ( رَحِمَہُمُ اللہُ المبین) کی قُبُور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادَبی کریں گی تو عورَتوں میں یہ دونوں باتیں کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔ (بہارِ شریعت جلد اوّل حصہ ۴ ص ۸۴۹مکتبۃ المدینہ)    
اعلیٰ حضرت  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہنے عورَتوں کو مزارات پر جانے کی جابجا مُمانَعت فرمائی، چُنانچِہ ایک مقام پر فرماتے ہیں :امام قاضی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی سے اِستِفْتاء (سُوال ) ہوا کہ عورَتوں کا مَقَابِرکو جانا جائز ہے یانہیں ؟ فرمایا: ایسی جگہ جواز وعَدَمِ جواز( یعنی جائز و ناجائز کا) نہیں پوچھتے ، یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے؟ جب گھر سے قُبُور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہےاللہ (عَزَّوَجَلَّ)  اورفِرشتوں کی لعنت ہوتی ہے جب گھر سے باہَر نکلتی ہے سب طَرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں ، جب قبر تک پہونچتی ہے میِّت کی 

روح اُس پر لعنت کرتی ہے جب تک واپَس آتی ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت میں ہوتی ہے۔  
(فتاوٰی رضویہ ج۹ ص۵۵۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !
صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد