عظمتِ امام الائمہ سیدنا امام اعظم 

سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنی زندگی میں پچپن حج کئے جب آخری بار حج کی سعادت حاصل کی تو خدام کعبہ مشرفہ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خواہش پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے باب الکعبہ کھول دیا آپ بصد عجز ونیاز اندر داخل ہوئے اور بیت اللہ کے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر دو رکعت میں پورا قرآن ختم کیا ۔ پھر دیر تک رو رو کر مناجات کرتے رہے ۔ آپ مشغول دعا تھے کہ بیت اللہ کے ایک گوشہ سے آواز آئی۔ ’’ تم نے اچھی طرح ہماری معرفت حاصل کی اور خلوص کے ساتھ خدمت کی ۔ ہم نے تم کو بھی بخشا اور قیامت تک جو تمھارے مذہب پر ہوگا (یعنی جوتمھاری تقلید کرے گا ) اس کو بھی بخش دیا ‘‘۔ (الخیرات الحسان)
امام بخاری کے دادا استاذ سیّدنا عبد اللہ بن مبارک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے فرمایا  
 فَلَعْنَۃُ رَبِّنَا اَعْدَادَ رَمْلٍ عَلٰی مَنْ رَدَّ قَوْلَ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ
ترجمہ :  ہمارے رب کی لعنت ہوریت کے ذروں کی تعداد میں ، اس (شخص )پر جو ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فرمان کو رد کرے۔