داتا صاحب کو ایصالِ ثواب کی برکت 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِین کو ایصالِ ثواب کرنا ہدایت کا ذَرِیعہ بھی بن سکتا ہے ،چنانچِہ کورنگی (باب المدینہ کراچی)میں مُقِیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے:غالباً1992؁ء کی بات ہے ،ہم اُن دنوں گلستانِ جوہر(بابُ المدینہ ) میں رہتے تھے۔چھوٹی سی عمر میں T.V. پر فلمیں ڈرامے دیکھنے کے منحوس شوق نے مجھے ناچنے کا شوقین بنادیا یہاں تک کہ میں نے ڈانس کے مقابلوں میں بھی حصّہ لیا اور اِنعامات بھی حاصِل کئے۔ جب میری تصویریں اخبارات میں چھپیں تو خاندان میں خوب پذیرائی ملی، میں ’’ پھول کر کُپّا‘‘ ہو گیا اور ڈانس سیکھنے کی اکیڈمی کے اندر داخِلہ لے لیا اور اس منحوس فن میں اتنی مَہارت حاصِل کی کہ’’ ڈانس ڈائریکٹر‘‘ (یعنی ڈانس سکھانے والا) بن گیا۔ میں نے فرانس ،تھائی لینڈ وغیرہ کا سفر کیا اور ہند سے’’کلاسیکل کَتَھک ڈانس ‘‘ بھی سیکھا۔اب میں ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا کہ مشہور اداکارائیں اور اداکار مجھ سے ڈانس سیکھا کرتے تھے۔اِس بے حیائی کے ماحول میں مجھے ایسی جوان لڑکیاں بھی ملیں جو اچّھے سے اچّھا ڈانس سیکھنے کے لالچ میں ’’کچھ بھی ‘‘کرنے کو تیّار تھیں۔ اسی دَوران میری والِدَہ کا انتِقال بھی ہوامگر میری آنکھیں نہ کھلیں ۔لیکن والِدَہ کی ہدایت کی بدولت دُرودِ پاک سے مَحَبَّت تھی۔ غالِباً اپریل2005؁ء میں ایک ڈانس پروگرام کے سلسلے میں مرکزالاولیاء لاہور جانا ہوا،  حُضُور داتا گنج بخش رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے مزارِ پُر انوار کے سامنے سے گزرتے
 ہوئے میں نے انہیں دُرودِ پاک پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا ۔ناچ ناچ کر تھک ہار کر جب سویا توخواب کے اندر کیادیکھتا ہوں کہ میرے مرحوم والِدَین بھڑکتی آگ کے گھیرے میں ہیں اور مجھے دیکھ کر چلّا چلّا کر کچھ یوں کہہ رہے ہیں :’’ ہم تیری اسلامی تربیّت کرنے میں کوتاہی کرگئے، ہائے ہماری خرابی! تو ڈانسر اور شرابی بن گیا! اب تیری وجہ سے آگ ہمیں جلا رہی ہے، تُو توبہ کر لے تا کہ تُو بھی عذاب سے بچے اورہم بھی چُھٹیں ۔‘‘ میں خواب میں رونے لگا اورمیری آنکھ کُھل گئی اور میں کافی دیر تک روتا رہا۔ پھر میں حُضُور داتا گنج بخش رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے مزارِ پُر انوار پر حاضِر ہوا، قدموں کی طرف بیٹھ کررو روکر میں نے داتا صاحب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ سے فریاد کی: ’’یا داتا! اب آپ ہی مجھے سنبھالئے!‘‘ اتنے میں کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ، سر اٹھا کر دیکھا تو سفید لباس اور سر پر سبز عمامے میں ملبوس ایک صاحِب تھے ، جو کہ مُشفِقانہ لہجے میں فرمارہے تھے: بیٹا! موت کسی بھی وقت آسکتی ہے ، جلدگناہوں سے توبہ کرلو۔ میں نے پوچھا : میں کہاں جاؤں ؟ مُسکرا کر فرمانے لگے :’’ بابُ المدینہ کراچی آجاؤ۔‘‘یہ کہہ کروہ ایک دم میری نظروں سے اَوجَھل ہوگئے !یہ میری بیداری کا واقِعہ ہے۔
جب میں بابُ المدینہ کراچی پہنچا تو کسی نہ کسی طرح  شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہکی خدمت میں جاپہنچا ،جب پہلی بار ان کی زیارت کی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہی تو 

تھے جو مجھے داتا حضور رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے مزار پر ملے تھے اور مجھے باب المدینہ آنے کا فرمایا تھا۔ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے مجھ پر بہت شفقت فرمائی ،اسی دوران اور ایک مبلِّغ دعوتِ اسلامی ورُکن شوریٰ سے بھی ملاقات ہوئی تو اُن کی اِنفِرادی کوشِش سے میں نے سنّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر اختیار کیا۔ جب امیرِ قافِلہ نے سیکھنے سکھانے کے حلقے میں غسل کا طریقہ بتایاتو میرا دل اُچھل کر حَلق میں آگیا کہ یاخدا! میں تو ناپاکی کی حالت میں ہوں ، فوراًمسجِد سے باہَر نکلا اور اُسی وَقت غسل کیا۔ مَدَنی قافِلے میں بتائے جانے والے طریقے کے مطابِق میں نے رات  صلٰوۃُ التَّوبہ پڑھی اور سوگیا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ والدۂ مرحومہ چاند سا چہرہ چمکائے مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام میں نَماز ادا کررہی ہیں ،سلام پھیرنے کے بعد اُنہوں نے مجھے گلے لگا لیا۔میں رونے لگا،امّی جان نے کہا:اب میں بَہُت خوش ہوں ،آؤ!نَماز پڑھتے ہیں ،فارِغ ہوکر میں نے ابُّوجان کے بارے میں پوچھاتو اُنہوں نے ایک طرف اشارہ کیا۔میں اُس طرف چل دیا، چلتے چلتے ایک بَہُت بڑے میدان میں پہنچ گیا،درمیان میں شیشے کا ایک کمرہ تھا،بَہُت سے لوگ اُس کے اندر جانے کی ناکام کوششیں کررہے تھے، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں بڑے آرام سے اندرچلا گیا،وہاں پانچ بُزُرگ تھے،ایک بُزُرگ جو درمیان میں قدرے اُونچائی پر تشریف فرما تھے،اُن کے چِہرے پر اتنا نُور تھا کہ نگاہ نہیں ٹھہر رہی تھی۔میں نے اُن بُزُرگوں سے پوچھا: میرے

 ابوجان کہاں ہیں ؟تو ایک بُزُرگ نے کمرے کے پچھلے حصّے کی طرف اِشارہ کیا۔وہاں گیا تو والِد صاحِب اندھیرے میں بیٹھے زاروقطار رو رہے تھے۔میں نے رونے کا سبب پوچھا: جواب دیا:ہر ایک ان بُزُرگوں کو تحفے پیش کر رہا ہے مگر میں کیا پیش کروں ، تم مجھے کچھ بھجواتے ہی نہیں !یکا یک ایک نور کا طشت میرے ہاتھ میں آ گیا،میں نے والدِ مرحوم کو دے دیا،والِد صاحِب مجھے ساتھ لئے کمرے میں داخِل ہو گئے اور نُورانی چِہرے والے بُزُرگ کی خدمت میں وہ نُورانی تھال پیش کردیا۔پھر ہم وہاں سے باہَر نکل آئے،اُس وَقت میرے دل میں خیال آیا کہ ہو نہ ہویہ نُورانی چہرے والے بُزُرگ میرے نُور والے آقا محمدِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تھے۔پھر میری آنکھ کُھل گئی۔دیکھا تو میرا جسم خوشبو سے مَہَک رہا تھا۔یہ ایمان افروز خواب دیکھنے کے بعد میں نے تمام گناہوں سے سچّی پکّی توبہ کی اور امیرِقافلہ کے ہاتھوں اپنے سر پر سبز سبز عِمامہ شریف سجا لیا اور داڑھی شریف بڑھانے کی بھی نیَّت کرلی ۔
کچھ ہی دنوں بعد میں نے دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں 63 روزہ  مَدَنی تربیّتی کورس اور41دن کا مَدَنی قافِلہ کورس کرنے کی سعادت پائی۔ پھرمیں نے امامت کورس میں بھی داخِلہ لیا، چند ہی دن گزرے تھے کہ میں نے 12ماہ کے مَدَنی قافِلے میں سفر کے لئے خود کو پیش کردیا ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ رَمَضانُ المبارَک(۱۴۲۶؁ھ۔2005؁ء)میں عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ  میں  
ہونے والے اجتماعی اعتِکاف میں شرکت کی سعادت ملی، ایک دن بیان میں مبلِّغِ دعوتِ اسلامی نے میرے مُتَعلِّق مَدَنی بہار سنائی تو ایک اسلامی بھائی کو مجھ سے بَہُت ہمدردی ہو گئی اور انہوں نے عیدُ الفِطرکے تقریباً ایک ہفتے بعد مجھے ملازَمت پر لگوادیا ، پھر میری مَدَنی ماحول میں شادی بھی ہوگئی، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!تادمِ تحریر ڈویژن سطح پر ’’مجلسِ ڈاکٹرز‘‘اور ’’مجلسِ کھیل‘‘کے رُکن کے طورپراپنی سنّتوں بھری تحریک،’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کی ترقّی کے لئے کوشاں ہوں ۔میری یِہی مَدَنی بہار دنیا کے واحد حقیقی اسلامی چینل’’ مَدَنی چینل ‘‘پر بھی دکھائی اورسنائی گئی تو مجھے حیدر آباد کے اسلامی بھائی کا فون آیا کہ یہاں پر ایک بدمذہب آپ کی مَدَنی بہار دیکھ کربَہُت مُتأَثِّر ہوا ہے اور آپ سے ملنا چاہتا ہے، اگر آپ سمجھائیں گے تو اُمّید ہے وہ توبہ کر لے گا ، میں اِنفِرادی کوشِش کی نیّت سے حیدر آباد پہنچ گیا، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!اُس بدمذہب نے نہ صِرف خود بُرے عقائد سے توبہ کی بلکہ اُس کے اکثر گھروالے بھی تائِب ہو گئے اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوکر سرکارِ غوثِ پاک رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  کے مُرید بن گئے۔اللہ تعالٰی مجھے اور میرے کُنبے کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں استقامت عنایت فرمائے۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم 
گِرپَڑ کے یہاں پہنچا،مر مر کے اسے پایا  
چھُوٹے نہ الٰہی !اب سنگِ درِ جانانہ
(سامانِ بخشش ص۱۵۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس ’’ مَدَنی بہار‘‘سے ہمیں بے شمار مَدَنی پھول چُننے کو ملتے ہیں۔ مَثَلاً{۱}گھر کے اندر اگر T.V.پر فلمیں ڈرامے گانے باجے چلتے ہوں تو اپنی اور اولاد کے کِردار کی تباہی کا سامان ہوتا ہے جیسا کہ’’ بچّہ ‘‘ فلمیں دیکھ دیکھ کر ’’ ڈانس ڈائریکٹر‘‘ بن گیا !{۲} دُرُود شریف سے مَحَبَّت بھی گناہوں بھری زندَگی سے چھٹکارے کا سبب بنتی ہے جیسا کہ سابِقہ ڈانس ڈائر یکٹر کا ہوا{۳}بُزُرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ المُبِینکو ایصالِ ثواب کرنا ہدایت کا ذَرِیعہ بن سکتا ہے جیسا کہ صاحبِ مَدَنی بہار نے دُرُود شریف پڑھ کر حُضور داتا صاحب رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  کو ایصالِ ثواب کیا تو ہدایت کی سبیل بننی شروع ہوئی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں فلمیں ڈراموں سے بچنے ،نمازوں کی پابندی کرنے،دُرودِ پاک پڑھنے ،اپنی اولاد کی مَدَنی تربیت کرنے ،بزرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین کو اِیصال ثواب کرنے اور ان کے مزارات پر بااَدَب حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
ہم کو سارے اولیا سے پیار ہے
اِنْ شَآءَ اللہ اپنا بیڑا پار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد