(۸)  خواجہ محبوب الٰہی کے مزار پر حاضری

سرکارِاعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان  
علیہ رحمۃ الرحمن جب 21 برس کے نوجوان تھے اُس وَقْت کا واقِعہ خود اُن ہی کی زَبانی ملاحَظہ ہو ، چُنانچِہ فرماتے ہیں : سَتْرہویں شریف ماہِ فاخِر ربیعُ الآخِر۱۲۹۳؁ھ  میں کہ فقیر کو اکیسواں سال تھا۔اعلیٰ حضرت مصنِّف عَلّام سیِّدُنا الوالِدقُدِّسَ سِرُّہُ الماجِد و حضرت مُحِبُّ الرسول جناب مولیٰنا مولوی محمد عبدالقادِر صاحِب بدایونی  رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے ہمراہِ رِکاب حاضِرِ بارگاہِ بیکس پناہ ِحُضور پُر نُور محبوبِ الہٰی نظامُ الحقِّ وَالدّین سلطانُ الْاَولیاء رَضِیَ اللہ تعالٰی عنہہوا۔حُجرۂ مُقدَّسہ کے چار طرف مجالسِ باطِلہ لَہْو و سَرَوْد گرْم تھیں ۔شور و غَوغا سے کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی۔دونوں حضراتِ عالیات اپنے قُلوبِ مُطْمَئِنّہ کے ساتھ حاضِرِمُواجَہَۂ اَقدس ( مُ۔وا۔جَ۔ہَ۔ ئِ۔ اَقدس )ہوکر مشغو ل ہوئے ۔ اِس فقیرِ بے تَوقیرنے ہُجومِ شور و شَر سے خاطِر( یعنی دل ) میں پریشانی پائی ۔دروازۂ مُطہَّرہ پر کھڑے ہوکر حضرتِ سلطانُ الْاَولیاء رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ سے عرض کی کہ اے مولیٰ ! غلام جس کیلئے حاضِر ہوا ،یہ آوازیں اس میں خَلَل اندازہیں ۔ (لفْظ یِہی تھے یا ان کے قَریب ،بَہَرحال مضمونِ مَعْروضہ یِہی تھا ) یہ عرض کرکے بِسمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں دروازۂ حُجرۂِ طاہِرہ میں رکھا بِعَونِ رَبِّ قدیر وہ سب آوازیں دَفْعَۃً گُم تھیں ۔ مجھے گمان ہوا کہ یہ لوگ خاموش ہورہے ،پیچھے پھر کر دیکھا تو وُہی بازار گَرْم تھا ۔قدم کہ رکھا تھا باہَر ہٹایا پھر آوازوں کا وُہی جوش پایا ۔ پھر بِسمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں اندر رکھا ۔ بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی پھر ویسے ہی کان ٹھنڈے تھے ۔اب معلو م ہوا کہ یہ مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کا کرم اور حضرتِ سلطانُ الْاَ ولیاء رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کی کرامت اور 
 اس بندۂ ناچیز پر رَحْمت و مَعُونَت ہے ۔ شکر بجا لایا اور حاضِر مُواجَہَۂ عالِیہ ہوکر مشغول رہا ۔ کوئی آواز نہ سنائی دی ،جب باہَر آیا پھر وُہی حال تھا کہ خانقاہِ اقدس کے باہَر قِیام گاہ تک پہنچنا دشوار ہوا ۔ فقیر نے یہ اپنے اوپرگُزری ہوئی گزارِش کی ،کہ اوّل تو وہ نعمتِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ  تھی اور ربَّعَزَّوَجَلَّفرماتاہے: وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ﴿٪۱۱﴾ ’’ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّکی نعمتوں کو لوگوں سے خوب بیان کر ۔‘‘ مَع ھٰذا اِس میں غُلامانِ اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰیکیلئے بِشارت اور مُنکِروں پر بَلا و حسرت ہے۔ الہٰی!عَزَّوَجَلَّ صَدَقہ اپنے محبوبوں (رِضْوانُ اللّٰہِ تعالیٰ علیھم اَجمعین ) کاہمیں دنیا و آخِرت و قَبْر و حَشْر میں اپنے محبوبوں عَلَیہِمُ الرِّضْوَان  کے بَرَکاتِ بے پایاں سے بَہرہ مند فرما۔  (اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعاء ص ۱۴۰) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حِکایت’’ بائیس خواجہ کی چَوکھٹ دِہلی شریف‘‘ کی ہے ۔اِس میں تاجدارِ دِہلی حضرت سیِّدُنا خواجہ محبوبِ الہٰی نظام ُالدّین اولیا ءرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نُمایا ں کرامت ہے۔اِس حِکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باِلفرض اگر مزاراتِ اولیاء پر جُہَلاء غیر شَرْعی حَرَکات کررہے ہوں اور ان کو روکنے کی قُدرت نہ ہو تب بھی اپنے آپ کو اَہلُ اللّٰہ  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰیکے درباروں کی حاضِری سے محروم نہ کرے۔ ہاں مگر یہ

 واجِب ہے کہ اُن خُرافات کو دل سے بُرا جانے اور اِن میں شامل ہونے سے بچے۔ بلکہ اُن کی طرف دیکھنے سے بھی خود کو بچائے۔ (فیضانِ بسم اللہ، ص۸)