نِیاز بانٹنے کی احتیاطیں 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مزاراتِ اولیاء پرنِیاز تقسیم کر کے بھی صاحبِ مزار کو 
ایصالِ ثواب کیاجاسکتا ہے ،یقینا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاحاصل کرنے کے لئے نیاز وغیرہ تقسیم کرنے کی بڑی فضیلت ہے ، چنانچہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ 521پر لکھتے ہیں : کھاناکھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب(یعنی اچھاعمل) وباعثِ اَجرہے، حدیث میں ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : اِنَّ اللہَ   عَزَّوَجَلَّ یُبَاھِی مَلٰئِکَتَہٗ بِالَّذِیْنَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ مِنْ عَبِیْدِہٖیعنی اللہتعالیٰ اپنے اُن بندوں کے ساتھ جو لوگوں کوکھانا کھلاتے ہیں فرشتوں پر ُمباہات(یعنی فخر) فرماتاہے۔
 ( الترغیب والترھیب ،ج۲،ص۳۸، الحدیث۲۲ ) (فتاوی رضویہ، ج۲۴،ص۵۲۱)
لیکن لنگر تقسیم کرتے ہوئے اس بات کا خیال ضرور رکھئے کہ کسی طرح بھی لنگر کی بے حُرمتی نہ ہو ، نہ پاؤں میں آئے، نہ مزار شریف کا فرش آلودہ ہو ،دھکم پیل سے بچنے کے لئے اسلامی بھائیوں کو بٹھا کر یا قطار بنا کر لنگر تقسیم کیا جائے ، آنے والے زائرین کے حقوق کا خیال رکھا جائے کہ لنگر تقسیم کرنے کی وجہ سے ان کو حاضری دینے میں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خاص طور پر مزار شریف کی تعظیم کا مکمل اہتمام کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ ایک طرف لنگر توتقسیم کرکے اجروثواب کے مُسْتَحِق بنیں اور دوسری طرف مزار شریف کی بے ادبی کے مُرتکِب ہو جائیں ۔ کھانے کی نیاز کے ساتھ ساتھ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کُتُب ورسائل کا ’’ لنگرِ رسائل‘‘ کرکے بھی بے شمار ثوابِ جاریہ صاحبِ مزار کی خدمت میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد