ایسی جنت قید خانہ ہے جس میں قرب ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ نہ ہو:


    منقول ہے کہ حضر ت سیِّدَتُنارابعہ عدویہ بصریہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا ایک آدمی کے پاس سے گزریں جو جنت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس میں تیار کی گئی نعمتوں کو یاد کر رہا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہانے اُسے فرمایا:''اے شخص! کب تک خدائے واحد عَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کراس کے غیر میں مشغول رہے گا؟ ارے! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے! تجھے چاہے کہ پہلے قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کو دیکھ پھر جنت کو دیکھ۔'' اس نے کہا:''اے پاگل عورت!یہاں سے چلی جا۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے فرمایا:''میں پاگل نہیں۔پاگل تو وہ ہے جو میری بات نہ سمجھ سکا۔ اے جنت کے محتاج! ایسی جنت تو ایک قید خانہ ہے جس میں قرب ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل نہ ہو اور ایسی دوزخ بھی اس کے لئے تو ایک باغ ہے جس کا مُونِس و غم گسار اللہ تعالیٰ ہو۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام جنت میں تھے تو کھاتے پیتے اور مسرور تھے۔ جب درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تو وہی جنّت آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے قید بن گئی۔ اورحضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے جب اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کا راز محفوظ رکھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنا مقرب وپسندیدہ بنا لیا اور جب آپ علیہ السلام کو آگ میں داخل کیا گیا تو وہ آپ علیہ السلام پر سلامتی اور ٹھنڈک بن گئی۔''