اسلام ہندوستان اور سلطان الہند خواجہ غریب نواز

    ہندوستان کی رعنائی:

سر زمین ہندوستان متعدد وجوہ سے اہمیت و خصوصیات کی حامل ہے اور اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام سے مالا مال بھی۔ یہ نکہتوں، خوش بوؤںاور رعنائیوں کی سر زمین ہے اسلام سے اس کا تعلق ابتدا ہی سے رہا ہے گرچہ رحمت عالم خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد سے قبل شرک و ضلالت کی تاریکی کی نذر ہو کر رہ گئی۔
شری لنکا جو بنیادی طورپر ہند کا ایک حصہ رہا ہے اسی کے ایک پہاڑ پر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام اترے۔ حسان الہند مولانا سید غلام علی آزاد بلگرامی (م۱۲۰۰ھ)رقم طراز ہیں: آدم ہندوستان کے ایک پہاڑ پر اترے جسے ’’بوذ‘‘ کہا جاتا ہے اور حواجدہ میں اتریں ۔ آدم جب اترے تو ان کے ساتھ جنت کی مہک تھی جو وہاں کی وادیوں اور پیڑوں سے مس ہوئی اور وہاں کی ہر چیز خوش بوؤں سے بھر گئی ۔ (شمامۃ العنبر،طبع جائس ص۶۶)
حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے ہندوستان میں جواہرات اور کانوں کا وجود ہے ۔ کسی نے ہندوستان کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ : اس کا سمندر موتی ہے ، اس کے پہاڑ یاقوت ہیں ، اس کے درخت عود اور پتے عطر ہیں۔ (مرجع سابق، ص۶۴)
مولاناسید غلام علی آزاد نے اپنے اشعار میں بھی ہندوستان کا ذکر کیا ہے جس میں ایک اچھوتا اور نفیس نکتہ یہ ہے کہ چوں کہ حضرت آدم علیہ السلام میں نور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تھا اس طرح سب سے پہلے اس نور مبارک کے برکات سے ہندوستان مشرف ہوا۔ حسان الہند کے تین اشعار کا تشریحی ترجمہ ملاحظہ ہو:’’بنانے والے نے آدم 
کے اندر اپنا نور رکھ دیا روشن ستارے کی طرح چمکتا ہوا۔ ہندوستان ہمارے جد امجد کی جائے نزول اور قیام گاہ ہے ، یہ صحیح قول ہے اور اس کی سند مضبوط ہے تو ہندوستان کی سر زمین سب سے پہلے نور محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ضیا بار ہوئی جو سب عظمت والوں سے بہتر ہیں۔‘‘ (مرجع سابق،ص۸۹)
اقبال نے فکر رسا بات کہی   ؎
ہے اگر قومیت اسلام پابند مقام
ہند ہی بنیاد ہے اس کی نہ فارس ہے نہ شام

ہند میں اسلام:

رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد سے اسلام کی ضیائیں پھیلیں اور بہت جلد اسلام سر زمین عرب سے اطراف و جوانب کے علاوہ دوسرے ممالک و اماکن میں پہنچ گیا۔ پہلی صدی ہجری میں ہی اسلام کے قبول کا سلسلہ ہندوستان میں شروع ہو چکا تھا ۔ جنوبی ہند میں مالا بار کا علاقہ ، کیرالا کا ساحلی پٹہ نیز بعض جزائر سب سے پہلے دامن اسلام میں آئے ۔ ہندوستان میں پہلی مسجد کیرالا میں تعمیر ہوئی ۔ اسی صدی کے نصف اول میں پنجاب میں اسلام کی آمد ہوئی یوں ہی سندھ کا علاقہ بھی اس سلسلے میں اہم ہے جسے باب الاسلام کے نام سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی مدارس بھی قائم ہو گئے۔ حضرت ابو حفص ربیع بصری جو تبع تابعین میں سے ہیں ، آپ نے سندھ میں حدیث نبوی کے درس کااجرا فرمایا۔ شمال مغرب کا سرحدی علاقہ جوافغانستان سے ملا ہوا ہے اس راستے سے اکثر صوفیا و اولیا کے گروہ بہ غرض تبلیغ و اشاعت اسلام ہند واردہوئے جن کی خدمات و مساعی سے تاریخ کے اوراق جگمگا رہے ہیں۔  ؎
ہاں دکھا دے اے تصور! پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

سلطان الہند خواجہ معین الدین حسن چشتی غریب نواز رحمۃاللہ علیہ(م ۶؍رجب ۶۳۳ھ )کی آمدتک دھیرے دھیرے اسلام کی اشاعت ہوتی رہی جب آپ تشریف لے آئے تو اس میں تیزی آگئی اور نقشہ بدلا بدلا نظر آنے لگا۔آپ کے فیوض وبرکات سے گلشن ہند سیراب ہو گیا،امام احمد رضا محدث بریلوی(م۱۹۲۱ء) نے آپ کی فیض آسا بارگاہ میں قبولیت دعا کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی بارگاہ میں کی گئی دعا کو شرف یاب فرماتا ہے۔ 

خواجۂ ہند کی دعوت حق:

دلوں کا معاملہ عجیب ہے جب یہ زنگ آلود ہو جاتا ہے تو اس کی تطہیر کے لیے مشیت کسی نابغہ روزگار کو جلوہ آرا کرتی ہے۔ ہند کی سر زمین جس کا رشتہ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے جڑتا ہے ، یہاں جب شرک کی گھٹا ٹوپ تاریکی نے دلوں کی دنیا کو بنجر کر ڈالا تب دین اسلام کی اشاعت کی غرض سے کبھی تاجر کی حیثیت سے صحابہ و تابعین اور تبع تابعین آئے اور پھر اولیا و مجاہدین آئے ۔خواجہ غریب نواز نے ہند تشریف لا کر نظام دعوت و تبلیغ کو مربوط ومنظم کیا ،اور ہندوستان کے وہ علاقے جہاں صدیوں کی تبلیغ کے بعد بھی جبیں کا استحصال ہوتا رہا ،خالق کی دی ہوئی زندگی کے با وصف غیر کی بندگی کی جاتی رہی اور دل ایمان سے عاری ہی رہے ایسی سخت و کٹھن زمینوں اور بنجر وادیوں میں آپ کو تبلیغ کرنی تھی، ایمان کی جوت جگانی تھی، ویرانی اٹھانی تھی، فکر کی صفائی کرنی تھی اور خالق کا عرفان کروانا تھا۔رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا نقش دل پر جمانا تھا۔
خواجہ غریب نواز کی عمر تقریباً ۱۵؍ برس کی تھی کہ علم و حکمت کے زیور سے آراستہ ہو گئے ، عشق و عرفان اور الفت و محبت رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قلب میں پنہاں تھی ہی، اسوۂ نبوی پر عمل کی دولت سے بھی سرفراز تھے ۔ منازل معرفت و سلوک کے حصول میں لگ گئے ۔ ۵۵۲ھ میں خواجہ عثمان ہارونی (م۶۱۷ھ) سے بیعت و اجازت کی سعادت پائی اور احقاق حق کے لیے کوشاں ہو گئے نیز تزکیۂ باطن و صفائی قلب
کے لیے سیاحت ومسافرت شروع کر دی۔
اولیا و دعاۃ کی حیات جدوجہد سے عبارت نظر آتی ہے ۔ ان کی زندگی میں اشاعت حق کے لیے سیاحت کا پہلو رچا بسا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ مسافرت و مشقت اصلاح و تبلیغ دین کے لیے ہوتی تھی۔ علم کے گلستانوں کو چھوڑ کر ، بغداد و بخارا، سجز و سمرقند، بلخ و شیراز کو وداع کہہ کر کفر و شرک کی وادیوں میں جا کر شمع حق روشن کرنا آسان کام نہیں۔یہ کام کردار و گفتار کی چمک دمک اور باطن کی آراستگی و اخلاص و لگن کے بغیر ممکن نہیں، خواجہ غریب نواز سجز کے گلستان علم و حکمت کو چھوڑ کرعازم ہند ہوئے۔
۵۶۳ھ میں اپنے مرشد گرامی کے ہم راہ خواجہ غریب نواز حرمین مقدس پہنچے اور واپسی پر بدخشاں ، بغداد اور دوسرے بلاد اسلامیہ کا سفر فرمایا۔ ۵۸۳ھ میں پھر حرمین مقدس کا سفر فرمایا، مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچ کر بارگاہ سرور کونین میں حاضری دی اور دربار رسالت سے ولایت ہند کی بشارت ملی نیز حکم دعوت و تبلیغ سے شرف یاب ہوئے۔وہاں سے حاضری کے بعدبغداد، ہرات، تبریز، بلخ ہوتے ہوئے غزنی کے راستے ہندوستان آئے اور لاہور میں مبلغ اسلام حضرت سید علی بن عثمان ہجویری داتا گنج بخش لاہوری(م۴۶۵ھ) کے مزار اقدس پرحاضر ہو کر حصول فیض فرمایا جس پر آپ کا یہ شعر غماز ہے  ؎
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں رارہنما
اصلاح وتبلیغ کے لیے دوسری زبانوں کا سیکھنا باعث اجروثواب ہے ۔ سفر ہند کے سلسلے میں خواجہ غریب نواز نے ملتان میں کچھ عرصہ رہ کر باضابطہ ہندوستانی زبانوں کو سیکھا پھر دہلی میں قیام فرما کر اجمیر پہنچے جب کہ اجمیر مشرکین کا مذہبی مرکز اور جائے عقیدت تھا۔اور یہاں دعوت حق پیش کرنا آگ و خار سے گزرنے سے اشد تر تھا۔ خواجہ غریب نواز نے اس مقام کو تبلیغ و اصلاح کا مرکز بنایا اور اس دشوار علاقے کو زیر کیا ،جہاں دلوں پر کفر کی ایسی تہیں پڑ چکی تھیں کہ انھیں دور کرنا بڑا کٹھن تھا۔جور و ستم کی آندھیاں قدموں میں زنجیر ڈالنے کے درپے ہوئیں لیکن دم توڑ گئیں ۔ اقتدار کی قوت و شان عزم خواجہ غریب نواز کے آگے ختم ہو کررہ گئی ، ان کے طوفان و حوادث نے آپ کے حوصلوں کوپابند سلاسل کرنا چاہا لیکن نا مراد ہو کررہ گئے۔شرارۂ کفر راکھ ہو تا گیا اور خواجہ غریب نواز کامیاب  ؎
جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی
الٰہی! کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں 
لوگ جوق در جوق اسلام کے دامن میں آتے گئے ، آپ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے کفرکاکلادہ اتار پھینکا ، روشنی ملتی گئی اور تیرگی دور ہوتی چلی گئی ، آپ نے اجمیر کے نواح میں بھی دعوت حق پیش کی جس کے کافی گہرے اثرات سامنے آئے، راجہ کو بھی دعوت اسلام پیش کی لیکن وہ ایمان نہ لایا اور اس نے آپ کے مقابلے کے لیے ساحروں اور جادوگروں کی مددلی۔ موسوی عزم کے آگے فراعنۂ عصر کا سحر کب چلتا، ہر مخالفت قبول حق اور اشاعت حق کے راستے کو مزید کشادہ کر جاتی ہے۔اور اجمیر ہی کیا حق کا آوازہ سارے ہند میں رفتہ رفتہ پھلتا چلا گیا۔ آپ کا ارشاد فرمایا ہوا’’ماپتھورا را زندہ گرفتیم ودادیم‘‘ کا تاریخی جملہ اسلامی حکومت کے قیام کی بنیاد ثابت ہوا۔
سلطان الہند خواجہ غریب نواز کے تلامذہ و خلفا اور مسترشدین و مریدین نے آپ کے اصلاحی و دعوتی مشن کو آگے بڑھایا،جس کے نشانات سارے ہندوستان میں اپنی داستان عظمت آج بھی سناتے محسوس ہوتے ہیں ۔ان کی خدمات کی خوش بو اب تک روح و دماغ کو معطر کر رہی ہے اور خواجہ غریب نواز کا فیض اب تک دلوں کی دنیا کو مہکا رہا ہے  ؎
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا