قدمِ سلطان الہند خواجہ اجمیری ہند میں                                                                                                                                 

سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے والد کا اسم گرامی غیاث الدین۵۳۷ھ میں ایران کا علاقہ سیستان میں پیدا ہوئے۔سلسلہ نصب گیارہ واسطوں سے سید الشہداء حضرت امام حسینؓسے ملتا ہے۔پندرہ سال کے تھے کہ والد ماجد نے انتقال فرمایا۔تقسیم وراثت میں آپ کے حصہ میں ایک باغ آیا۔ایک روز اپنے باغ میں بیٹھ تھے کہ ایک مجذوب شیخ ابراہیم تشریف لائے۔حضرت خواجہ نے نایت ادب سے چند خوشئہ انگور ان کی خدمت میں پیش کئے۔شیخ نے اپنے لعاب دہن سے تر کرکے حضرت خواجہؒکو کچھ کھلایا۔جس کے کھاتے ہی ان کا دل دنیا سے بے نیاز ہوگیا اور تمام جائیداد راہ خدا میں خیرات کردی ۔پھر بخار اشریف لے گئے جہاں آپ نے حفظ قرآن اور علوم ظاہری کی تعلیم حاصل کی۔تعلیم سے فراغت کے بعد عراق تشریف لے گئے جہاں حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒسے بیعت ہوئے۔بیس سال تک مرشد کامل کی خدمت میں رہے۔

خواجہ غریب نواز ؒاللہ کے دربار میں؛

حضرت خواجہ غریب نوازؒ۵۸۳ہجری میںمکہ معظمہ پہنچے اور خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوئے،اکثر طواف کعبہ کرتے اور عبادت میں مشغول رہتے،آپنے وہاں بے شمار سعادتیں اور برکتیں حاصل کیں۔ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت خواجہ غریب نوازؒخانہ کعبہ میں عبادت میں مشغول تھے،غیب سے آواز آئی’’اے معین الدین میں تجھ سے راضی ہوں تجھے بخش دیا،جو کچھ تیرادل چاہے مانگ لے‘‘خواجہ غریب نوازؒیہ سن کر بہت خوش ہوئے اور بے خود ہوکر سجد ے میں گر پڑے،آپ نے بارگاہ ایزدی میں نہایت عاجزی وانکساری سے عرض کیا’’خداوند!جو میرے سلسلہ میں مرید ہوں ان کو بخش دے‘‘اسی وقت نداآئی’’اے معین الدین !تیری دعا مقبول ہے اور قیامت تک تیرے سلسلے میں جو داخل ہوگا اسے بخش دوں گا‘‘

خواجہ غریب نوازؒرسول اللہﷺکے دربار میں؛

مکہ معظمہ سے روانہ ہو کر حضرت خواجہ غریب نوازؒمدینہ منور آئے اور بکمال عجز ونیاز دربار رسالت مآب میں حاضری دی،روازنہ مسجد نبویﷺمیں نماز پنجگانہ ادا کرتے اور بیشتر اوقات روضہ اقدس کے قریب حاضر رہ کر درود وسلام پیش کرتے رہتے،ایک روز صبح کے وقت نماز فجر سے فارغ ہونے کے بعد تمام مسجد نبویﷺکے نمازی روضہ اقدس کے قرب وجوار میں صلوۃ وسلام پڑھ کرادب واحترام سے رخصت ہوتے جارہے تھے کہ یکایک نداآئی،’’معین الدین کو بلائو‘‘شیخ الروضہ نے محراب مسجد میں کھڑے ہوکر آواز دی۔’’معین الدین حاضر ہوں‘‘اس مجمع میں جس قدر معین الدین نام کے افراد موجود تھے،شیخ الروضہ کی آواز پر لبیک لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوگئے۔اب شیخ الروضہ حیران ہیں کہ کس معین الدین کو سرکار نے طلب فرمایا ہے۔چنانچہ دریافت کرنے پر حضورﷺنے فرمایا ؛’’معین الدین چشتی کو حاضر کرو‘‘خواجہ معین الدین چشتیؒلبیک لبیک کہتے ہوئے شیخ الروضہ کے قریب پہونچ گئے شیخ الروضہ نے آپ کو روضہ اقدس تک پہونچا یا اور عرض کیا؛یارسول اللہﷺ!معین الدین چشتیؒ حاضر ہے‘‘روضہ اقدس کا دروازہ خود بخود کھل گیا اور ارشاد نبویﷺہوا۔’’اے قطب المشائخ اندرآئو‘‘حضور خواجہ غریب نوازؒعالم واجدانی میں روضہ اقدس کے اندر داخل ہوئے اور تجلیات نبویﷺسے بے خود وسرشار ہوگئے،جب طمانیت قلب حاصل ہوئی حکم ہوا۔اے معین الدین !تو ہمارے دین کا معین ہے‘ہم نے ولایت ہند تجھے عطا 
 کی۔ہندستان جا اور اجمیر میں قیام کر‘وہیں سے تبلیغ اسلام کرنا،خدا تجھے برکت
دے گا۔خواجہ غریب نوازؒبصد ادب واحترام روضہ اقدس سے باہر نکلے آپ پر ایک خاص کیفیت طاری تھی جب وجدانی کیفیت وسرورنے قلب کو سکون بخشا تو فرمان رسالت یاد آیا مگر حیران تھے کہ ہندستان کدھر ہے اور اجمیر کہاں ہے؟اسی فکر وتردو میں تھے کہ شام ہوئی اور سورج غروب ہوا بعد نماز عشاء آنکھ لگی اور آپ سوگئے ۔عالم خواب میں تمام ہندستان کا نقشہ اور اجمیر کا منظر آپ کے سامنے تھا،جب نیند سے بیدار ہوئے تو سجدہ شکر ادا کیا اور روضہ اطہر پر حاضر ہوکر تحفہ درود سلام پیش کرکے ہندستان کی جانب روانہ ہوئے۔حضورغریب نوازؒاپنے سفر کے دوران شام بھی گئے مگر یہ و ثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آ پ واپسی میں شام گئے یا جاتی دفعہ ادھر سے گزرے۔بہر حال خواجہ غریب نوازؒاس سفر کا حال خود بیان فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ ایک شہر پہنچا جو شام کے قریب ہے ‘وہاں ایک بزرگ ایک غار میں رہا کرتے تھے،ان کے بدن کا گوشت پوست خشک ہوگیا تھا،صرف ہڈیاں باقی تھیں،وہ بزرگ لبادہ پر بیٹھے ہوئے تھے اور دو شیر دروازے پر کھڑ ے تھے میں ان کی ملاقات کو گیا مگران شیروں کی وجہ سے اندر جانے کی جرئات نہ ہوئی،شیخ نے مجھے دیکھ کر فرمایا’’چلے آئوڈرو نہیں‘‘یہ سن کر میں اندر چلا گیا اور ادب سے بیٹھ گیا،کہنے لگے جب تک کسی چیز کا قصد نہ کرو گے وہ بھی تمہارا قصد نہ کرے گی،پھر فرمایا؛جس کے دل میں خوف خدا ہوتا ہے ہر چیز اس سے ڈرتی ہے پھر مجھ سے دریافت فرمایا’’کہاں سے آنا ہوا‘‘عرض کیا بغداد سے کہنے لگے خوش آمدی لیکن مناسب یہ ہے کہ درویشوں کی خدمت کرتے رہوتا کہ تمہارے اندربھی درویشوں کا ذوق پیدا ہو۔پھر فرمایا؛مجھے کئی سال اس غار میں رہتے گزرگئے ،ایک بات سے ڈرتا ہوںمیں نے دریافت فرمایا’’ وہ کیا بات ہے۔انہوں نے کہا نماز ہے جس کے ادا کرنے کے بعد اس خوف سے مباداکوئی شرط نہ رہ گئی ہوا نمازی ہی میرے لئے عتاب ہوجائے روتا ہوں،پس اے درویش اگر نماز ادا کی تو سبحان اللہ ورنہ مفت میں عمر رائیگان ہوئی۔اس کے بعد کہنے لگے،ارکان نماز کو پورا نہ ادا کرنے سے زیادہ کوئی گناہ نہیں،مجھے معلوم نہیں کہ میری نماز خدا قبول فرمائی یا نہیں،پھر مجھے ایک سیب دیا اور فرمایا کوشش کرو کہ حق نماز ادا ہوجائے ورنہ کل قیامت کے دن شرم ساری ہوگی۔ پھر خواجہ غریب نوازؒوہاں سے کوچ فرمایا اور سیدھے ہندستان کی طرف چل پڑے۔

خواجہ غریب نوازؒہندستان کی راہ پر؛

ہرات سے کوچ فرما کرخواجہ غریب نوازؒ سبزہ وار پہنچے ،سبزوار کا حاکم شیخ محمد یادگار بڑ اظالم ،جابر اور بدکردار شخص تھا،شیعہ مذہب رکھتا تھا اور خلفا ثلاثہ کے نام کا دشمن تھا۔اس نے شہرکے باہر ایک باغ لگوایا تھا جو بڑا پر فضا تھا،خواجہ غریب نوازؒاس باغ میں داخل ہوئے،حوض میں غسل فرمایا اور دوگانہ ادا کرکے کلام اللہ کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ۔اتفاق کی بات ہے کہ باغ کا حاکم سیروتفریح کے لئے آنے والاتھا۔باغ کے مالیوں نے آپ سے استد عاکی کہ آپ باغ میں قیام نہ کریں کیوں کہ اگر حاکم نے دیکھ لیا تو خیر نہیں۔آپ نے فرمایا ‘‘تم اس کاخوف نہ کرو‘‘اتنے میں خبرآئی کہ حاکم کی سواری آگئی ۔خدام ادب سے گھڑے ہوگئے۔خواجہ غریب نوازؒکے خادم نے کہیں سن لیا تھا کہ حاکم شہر فقرآاور اولیاء اللہ کے متعلق اچھا خیال نہیں رکھتا ممکن ہے کوئی گزمذ پہونچائے اسی امر کے پیش نظر خادم نے آپ سے عرض کیا’’باغ میں اب بیٹھنا مناسب نہیں ،اگر کچھ حرج نہ ہو تو کسی دوسری جگہ تشریف لے چلیں‘‘آپ نے مسکر اتے ہوئے فرمایا ’’خوف نہ کرو اور کسی درخت کی آڑمیں بیٹھ کر قدرت کا تماشہ دیکھو‘‘جب حاکم باغ میں آیا تو آپ قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف تھے،آپ کو اپنے نشست کے قریب ہی قیام پذیر دیکھ کر اس کو سخت غصہ آیا اور اس نے اپنے ملازمین کو ڈانٹ کر کہا۔’’اس فقیر کو یہاں سے کیوں نہیں اٹھایا‘‘تمام ملازمین دم بخود رہ گئے اور خوف سے کانپنے لگے۔خواجہ غریب نوازؒ نے جو نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ آپ کا رعب و جلال دیکھتے ہی لرزہ براندام ہو کر زمین پر گر پڑ اور بے ہوش ہوگیا۔محمد یادگار کے ملازمین یہ دیکھ کر بہت پر یشان ہوئے اور خواجہ 
غریب نوازؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر نہایت عاجزی سے معافی مانگی۔خواجہ غریب نوازؒنے ازراہ کرام اپنے خادم کو بلا یا اور حکم دیا کہ بسم اللہ کر کے اس کے منہ پر پانی چھڑکو ،خادم نے جو نہی اس کے منہ پر پانی چھڑکا وہ ہوش میں آگیا نہایت شرمندہ ہوا اور اپنی بد سلو کی کی معافی چاہنے لگا آپ نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے فرمایا،تو مجھ سے معافی کا خواست گا ر ہے اور رسولﷺکی دل  آزاری کرتا ہے۔رسالت کے عظیم الشان خاندان کے ساتھ دعویٰ محبت کرنا اور ان کی پیروی نہ کرنا بے معنی ہے۔حضور غریب نوازؒنے اصحاب کباد رضوان اللہ علیہم کے مناقب کچھ اس انداز سے بیان فرمائے کہ تمام حاضرین پر رقت طاری ہوگئی ۔محمد یادگار اور ان کے ساتھی رونے لگے حضور غریب نوازؒکی اس نصحیت کا حاکم سبز وار شیخ محمد یادگار پر بڑا اثر ہوا اور وہ تائب ہوکر آپ حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے۔اب شیخ صاحب نے اپنا تمام مال نقد وجنس حضور غریب نوازؒکی خدمت میں پیش کردیا لیکن آپ نے اسے قبول نہیں کیا اور فرمایا جن لوگوں سے تم نے یہ مال جبراوصول کیا ہے یہ انہیں کے حوالے کردو تاکہ کل قیامت کے دن کوئی شخص تیرا دامن نہ پکڑے۔چنانچہ انھوں نے حضور غریب نوازؒکے فرمان کے مطابق حقیقی مالکو ں کوان کا مال لوٹا دیا اور کچھ باقی بچا اسے فقرئا ومساکین میں تقسیم کردیا۔دنیا کو ترک کرکے خواجہ غریب نوازؒکی صحبت اختیار کی،خواجہ غریب نوازؒنے آپ خلافت عطا فرماکر حصار کی ولایت بخشی مگر آپ خواجہ غریب نواز ؒکی جدائی برداشت نہ کرسکے اور ہمیشہ آپ کے زیر سایہ رہے چنانچہ خواجہ غریب نواز کی وفات کے بعد بھی مزار اقدس پر خادم بن کر تادم آخرت خدمت کرتے رہے ۔آپ کا مزار مبارک روضہ اقدس کے قریب ہی شمال مشرق میں اب بھی موجود ہے۔ حضرت شیخ المشائخ محمد یادگارؒکی اولاد اب تک اجمیر شریف میں موجود ہے اور انکو خواجہ غریب نواز ؒمزار اقدس کی خدمت کا حق حاصل ہے ۔یہ شیخ زادے کہلاتے ہیں۔

خواجہ غریب نواز ؒسر زمین ہند میں؛

سبزوار سے روانہ ہوکر خواجہ غریب نواز ؒغزنی پہونچے ۔وہاں سلطان المشائخ سید عبد الواحدؒسے ملاقات کا شرف حاصل فرمایا آپ کی ہمر کابی کا شرف حضرت قطب الاقطاب خواجہ بختیار کا کیؒشیخ المشائخ حضرت محمد یادگار ؒاور سید السادات حضرت خواجہ فخرالدینؒ گرد نیر کو حاصل تھا،اللہ والوںکا یہ قافلہ اب ہندستان کی سر حدپر تھا۔سامنے دیو قامت پہاڑ راستہ روکے کھڑے تھے لیکن حضرت خواجہ غریب نوازؒکا عزمواستقلال ان پہاڑوں سے زیادہ اٹل اورمضبوط تھا۔آپ نے اللہ کانام لے کر آگے بڑہایااور ان دیوقامت پہاڑوں،گھاٹنوںاور دشوارراستوں کو طے کرتے ہوئے ہندستان کے سر حدی علاقہ پنجانب میں داخل ہوگئے۔جس وقت حضرت خواجہ غریب نوازؒہندستان میںداخل ہوئے سلطان شہاب الدین محمد غوری اور اس کی فوج پر تھوی راج سے شکست کھا کر غزنی کی طرف واپس بھاگرہے تھے،ان لوگوں نے حضرت خواجہ غریب نوازؒاور آپ کے ہمراہیوں سے کہا کہ آپ لوگ اس وقت آگے نہ بڑھیں بلکہ واپس لوٹ چلیں کیونکہ مسلمانوں کے بادشاہ کو شکست ہوچکی ہے آگے بڑھنا آپ کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اللہ والوں کے اس گروہ نے جواب دیا کہ تم تلوار کے بھروسے پرگئے تھے اور ہم اللہ کے بھروسے پر جارہے ہیں۔چنانچہ اللہ والوںکا یہ قافلہ حسب معمول مسافت طے کرتا ہواقلعہ شادمان اور ملتان ہوتا ہوا دریائے روای کے کنارے پہونچ گیا۔دریائے روای کے اس پارپنجاب کا دار السطنت لاہور آباد تھا اور اس کے مندروں اور شوالوں کی اونچی اونچی سنہری کلغیاں دور ہی سے بتارہی تھیں کہ یہ شہر بڑی عظمت وشان والا ہے۔خواجہ غریب نوازؒ اورآپ کے ہمراہیوں نے دریا عبور کرکے شہر سے باہر حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے مزار پر انوار پر قیام فرمایا جو فصیل شہر کے قریب واقع تھا۔حضرت داتا گنج بخشؒاپنے وقت کے بے مثل عالم وفاضل عابد وزاہد اور بڑے کا ملین میں سے تھے،چنانچہ حضور خواجہ غریب نوازؒنے یہاں اعتکاف فرمایا،فیوض وبرکات باطنی حاصل کیا اورپھر یہاں سے روانہ ہوگئے روانگی کے وقت آپ نے حضرت داتا گنج
بخشؒکی شان میں حسب ذیل شعر پڑھا؛
گنج بخش فیض عالم مظہر نور  خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں رارہ نما
یہ شعر غریب نوازؒکی زبان سے بے ساختہ نکلا تھا لیکن یہ آپ کے حقیقی جذبات واحساسات کا آئینہ دار ہے اور اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج تک لوگ اسے بطور وظفیہ پڑھتے ہیں۔الغرض لاہور سے روانہ ہوکر حضور غریب نوازؒ سمانا(پٹیا لہ)پہنچے اور وہاں قیام فرمایا ،وہاں کے لوگ بظاہر آپ کے ہمدرد معلوم ہوتے تھے لیکن بباطن آپ کو گزند پہنچا نا چاہتے تھے اصل میں واقعہ یہ تھا دہلی اور اجمیر کے راجہ پرتھوی راج کی ماں علم نجوم کے ماہر تھی۔اس نے اپنے علم کی بنا پراپنے بیٹے کو آگاہ کردیا تھا کہ ایسی شکل وصورت اور حلیہ کا ایک شخص اس کے راج میں آئے گا جو اس کی تباہی کا باعث ہوگا۔راجہ نے اسی پیش گوئی کے پیش نظر مصوروں سے تصویریں بنوائیں اور سر حدوں پر بھیج دیں اور حکم دیا کہ اس صورت کا شخص جہاں بھی ملے فوراََ قتل کردو،چنانچہ جب حضرت خواجہ غریب نوازؒسمانا پہنچے تو راجہ کے آدمیوں نے آپ کو اسی شکل وصورت کا پا کر آپ کو روکنا چاہا ۔خواجہ بزرگؒکوبذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ میزبانوں کی نیتں بگڑی ہوئی اور وہ لوگ آپ کے ساتھ دغاوفریب کرنا چاہتے ہیں،لہذا آپ اپنے ہمراہیوں کو لے کر وہاں سے اس طرح بچ کر نکل گئے کہ دشمنوں کو خبر تک نہ ہوئی،
                                                                             ٭٭٭