اللہ سے ڈر اور جفا سے باز آ

 اللہ سے ڈر اور جفا سے باز آ

حضرت خواجہ معین الدین چشتی  فرماتے ہیں مسلمان بھائی کو بغیر کسی  وجہ کے ستانا گناہ کبیرہ ہے اور اہل سلوک کے نزدیک مسلمان کو ستانا سب سے بڑا گناہ ہے ۔

پھر حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے اپنی سیاحت کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ایک زمانہ میں بغداد میں تھا۔ دریائے دجلہ کے کنارہے ایک بزرگ ایک جھونپڑی میں اقامت گزیں تھے۔ میں ان کے پاس چلا گیا اور سلام عرض کیا۔ انہوں نے اشارہ سے میرے سلام کا جواب دیا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں  بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا 

اے درویش امجھے دنیا سے کنارہ کش ہوئے پچاس برس بیت گئے ان دنوں میں بھی تمہاری طرح سفر کیا کرتا تھا ایک دفعہ میںایک شہر سے گزرا وہاں ایک بڑا آدمی لین دین میں بہت سختی کیاکرتا تھا۔ مجھے اس کی یہ حرکت ناگوار گزری مگر چشم پوشی کر کےچلا آیا۔ غیب سے آواز آئی ۔

اے درویش ! تیرا کیا ہو جاتا اگر اللہ کے واسطے اس دنیا دار سے کہتا کہ مخلوق خدا پر ظلم نہ کر، یہ اچھی بات نہیں اللہ سے ڈر اور جفا سے باز آ ممکن ہے وہ تیری نصیحت مان لیتا اور ستم سے باز آ جاتا۔ شاید تجھے یہ خیال آیا ہو کہ وہ دنیا دار جو لطف و ضیافت تیرے ساتھ کرتا ہے پھر نہ کرے گا۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی  فرماتے ہیں پھر ان درویش نے مجھ سے کہا۔میں اس دن سے سخت شرمندہ ہوں اور پچاس برس گزر گئے میں نے اس جھونپڑی سے قدم باہر نہیں نکالا اور رات دن یہی فکر رہتی ہے کہ اگر اللہ عزوجل نے قیامت کے دن مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دوں گا ؟

 حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہے فرماتے ہیں

 اتنے میں مغرب کا وقت ہو گیا۔ ایک آش کا پیالہ، ایک پانی کا آبخورہ اور دو روٹیاں جو کی غیب سے آئیں اور میں نے ان کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ چلتے وقت انہوں نے اپنی جائے نماز کے نیچے۔ سے دو سیب نکال کر مجھے دیئے۔

Post a Comment

0 Comments